خواتین سے امتیازی سلوک، مودی کا ہندوتوا بیانیہ عالمی سطح پر بے نقاب
خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات نے بھارت کے صنفی مساوات کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوتوا بیانیے کو بھی عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق فرانس میں ایک انتہا پسند ہندو تنظیم کی جانب سے خواتین سے مبینہ امتیازی سلوک کے اقدامات نے بھارت کے نام نہاد ’’شائننگ انڈیا‘‘ کے دعووں کی حقیقت دنیا کے سامنے عیاں کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خواتین مخالف اقدامات پر مودی حکومت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور مودی کی ہندوتوا نظریے سے وابستگی بھی عالمی تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ دوسری جانب ہندو تنظیم بی اے پی ایس کے متنازع اقدام نے بھی بھارت میں مذہبی و سماجی عدم برداشت کے حوالے سے بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
فرانسیسی جریدے لی فگارو کے مطابق مذکورہ واقعہ فرانس کے مساوات اور عدم تفریق کے بنیادی اصولوں سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
بھارتی مصنفہ سریموئی پیو کنڈو کے مطابق ایسے واقعات کے باعث بھارت کی عالمی سطح پر خواتین مخالف، متعصب اور تنگ نظر معاشرے کی حیثیت سے تصویر ابھر رہی ہے۔
خواتین سے متعلق متنازع رویوں پر عالمی تنقید نے بھارت کے صنفی مساوات کے دعووں کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جبکہ مودی حکومت کے ہندوتوا بیانیے اور اس کے عملی اثرات پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں








