خواجہ آصف: خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے معاملے سے لاتعلقی اور بے حسی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کو مزید دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ہوچکا اور اہم فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک طرف دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت سیاسی سرگرمیوں اور لانگ مارچ میں مصروف ہے۔
وزیر دفاع نے 6 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 2 کسٹمز اہلکار بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے اس واقعے پر وہ ردعمل نہیں دیا جو ایسے حالات میں ضروری تھا۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور صوبے کے عوام مسلسل اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بنیادی ذمہ داری ہے اور موجودہ صورتحال پر مزید خاموش نہیں رہا جاسکتا۔
وزیر دفاع نے اس سے قبل بھی خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھائے تھے۔ 5 اکتوبر کو انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ دو برس کے دوران صوبے میں تقریباً 6,200 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جبکہ 1,200 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ اعداد و شمار خواجہ آصف کے اپنے بیان پر مبنی ہیں۔
خواجہ آصف نے صوبائی پولیس کی استعداد، انسداد دہشت گردی کے نظام اور سکیورٹی اخراجات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور سکیورٹی پالیسی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل سیاسی اختلاف کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت ماضی میں دہشت گردی کے خلاف وسائل اور وفاقی تعاون کی کمی کی شکایات کرتی رہی ہے۔
خواجہ آصف کے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا اور ملک کی وحدت و سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔








