پاک بحریہ کی بحیرہ عرب میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی
اسلام آباد: پاک بحریہ کے جہاز یرموک نے بحیرہ عرب میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف دو کامیاب کارروائیوں کے دوران دو مشتبہ کشتیوں کو روک کر بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی۔
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق یہ کارروائیاں بحیرہ عرب میں انسداد منشیات آپریشن کے دوران کی گئیں۔ پاک بحریہ کے جہاز یرموک نے سمندر میں مشتبہ نقل و حرکت کی نشاندہی کے بعد دونوں کشتیوں کو روکا اور ان کی تلاشی لی۔
تلاشی کے دوران کشتیوں سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی، جسے قبضے میں لے لیا گیا۔ پاک بحریہ کی جانب سے کارروائی کے دوران برآمد ہونے والی منشیات کی نوعیت اور مجموعی مقدار سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
پاک بحریہ کے جہاز یرموک کی جانب سے کی جانے والی کارروائی سمندری راستوں کے ذریعے منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ سمندری حدود میں منشیات کی اسمگلنگ نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک اہم چیلنج سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان بحریہ سمندری حدود کی نگرانی کے ساتھ ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ سمندر کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مشتبہ کشتیوں کی نگرانی، شناخت اور تلاشی اہم اقدامات میں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کا مقصد سمندری راستوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے۔
پاک بحریہ کے جہاز یرموک کی حالیہ کارروائیوں سے ایک مرتبہ پھر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری حدود میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی اور گشت کا عمل جاری ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سمندری راستوں کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
منشیات کی غیر قانونی ترسیل عالمی سطح پر ایک بڑا مسئلہ ہے اور سمندری راستے اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے اہم ذرائع میں شامل ہیں۔ اسی تناظر میں بحیرہ عرب میں نگرانی اور انسداد منشیات کی کارروائیاں خطے کی سمندری سلامتی کے لیے بھی اہم قرار دی جاتی ہیں۔








