خیبرپختونخوا میں گداگری کی روک تھام اور مستحق افراد کی بحالی کے لیے نیا قانون متعارف، سخت سزاؤں کی تجویز
حکومتِ خیبرپختونخوا نے صوبے میں پیشہ ور گداگری کے خاتمے اور حقیقی مستحق افراد کی بحالی کے لیے “خیبرپختونخوا ویگرینسی (کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن) ایکٹ 2026” کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد گداگری کے منظم نیٹ ورک کی حوصلہ شکنی، مستحق افراد کی بحالی اور معاشرے میں ان کی باعزت واپسی کو یقینی بنانا ہے۔
بل کے مطابق صوبے بھر میں خصوصی بحالی مراکز (ری ہیبلیٹیشن سینٹرز) قائم کیے جائیں گے، جہاں بھیک مانگنے والے افراد کی رجسٹریشن، بحالی، ہنر مندانہ تربیت اور انہیں روزگار کے قابل بنانے کے لیے جامع پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ ان مراکز میں بچوں، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
گداگری کے مستقل خاتمے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس میں سوشل ویلفیئر، صحت، تعلیم، پولیس، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی قانون پر عملدرآمد، نگرانی، اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور عوامی آگاہی مہمات کی ذمہ دار ہوگی۔
مجوزہ قانون کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا گیا ہے۔ بائیومیٹرک سسٹم، مصنوعی ذہانت (AI)، جیو ٹیگنگ اور مرکزی ڈیٹا بیس کے ذریعے پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سہولت کاروں کی شناخت اور نگرانی کی جائے گی، جبکہ بیرونِ ملک بھیک مانگنے والے عناصر کے خلاف بھی سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے اور ضرورت پڑنے پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
بل کے مطابق گداگری سے متعلق جرائم ناقابلِ ضمانت ہوں گے۔ پہلی مرتبہ جرم پر وارننگ، 10 ہزار روپے جرمانہ یا ایک ماہ قید جبکہ دوبارہ جرم پر ایک سال تک قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہو سکے گا۔ بچوں سے زبردستی بھیک منگوانے والے مافیا کے لیے تین سال تک قید اور چار لاکھ روپے تک جرمانے کی سخت سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔








