خیبرپختونخوا کابینہ کا 49واں اجلاس
رپورٹ: سید عدنان
صوبائی کابینہ کا 49واں اجلاس آج سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران اور محکموں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبے کی ترقی، شہری انفراسٹرکچر، توانائی، صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے متعدد اہم منصوبوں اور پالیسی امور پر غور کیا گیا۔ اس دوران پشاور میں فارنزک سائنس لیبارٹری کے قیام کے منصوبے کے لیے مالی اعانت کی منظوری زیر غور رہی۔ پشاور ریویٹالائزیشن پلان کے تحت شہری سہولیات اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔
مردان میں شیخ ملٹن ٹاؤن شپ کی ترقیاتی منصوبے اور نوشہرہ میں واٹر ہارویسٹنگ یونٹس کی تنصیب پر بھی غور کیا گیا۔ شہری ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ سے نادرن بائی پاس تک لنک روڈ کی فزیبلٹی اسٹڈی اور یونیورسٹی روڈ، رامداس چونگی اور لاہوری چوک پر انڈر پاسز کی تعمیر کے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ پشاور شہر میں اسٹریٹ لائٹس، گرین اسپیسز اور یادگاروں کے قیام کے منصوبے بھی کابینہ کے ایجنڈے میں شامل تھے۔
محکمہ صحت کی جانب سے پرنسپل میڈیکل آفیسرز کی نئی تعیناتیوں، ڈی ایچ کیو اسپتال ایبٹ آباد کی کیٹیگری اے میں اپ گریڈیشن، خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں جدید طبی سہولیات اور فوری مریض کی امداد کے لیے بجٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ توانائی کے شعبے میں ضم شدہ اضلاع کے 1,20,000 گھروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی تجویز شامل کی گئی، جبکہ مدین اور گبرال کالام ہائیڈرو پاور منصوبوں کو آئی جی سی ای پی منصوبہ بندی سے خارج کرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کی اطلاع کابینہ کو دی گئی۔ کلین انرجی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجرا پر بھی غور کیا گیا۔
قانون و انصاف کے شعبے میں نکاح نامہ فارم میں ترامیم، پشاور اور ایبٹ آباد میں ڈبل ڈوکیٹ کورٹس کے پائلٹ منصوبے اور دیر لوئر میں 100 کنال سرکاری اراضی تیمراگرہ جوڈیشل کمپلیکس کے لیے منتقل کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ علاوہ ازیں محکمہ خزانہ کی جانب سے ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ رولز 2024 میں ترامیم کی منظوری اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بند منصوبے کی واجبات کی ادائیگی کی منظوری زیر غور رہی۔
اجلاس کا مقصد صوبے کے اہم ترقیاتی، انفراسٹرکچر، صحت، توانائی، قانون اور مالیاتی منصوبوں پر غور کرنا تھا تاکہ خیبرپختونخوا میں شہری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو تقویت مل سکے۔








