تاریخ کی مبینہ سب سے بڑی کرپٹو ڈکیتی، ہیکرز بائنانس سے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر لے اُڑے!

تاریخ کی مبینہ سب سے بڑی کرپٹو ڈکیتی، ہیکرز بائنانس سے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر لے اُڑے!

شمالی کوریا پر سائبر حملے کا الزام، کرپٹو مارکیٹ میں بھونچال، بائنانس نے صارفین کے نقصانات پورے کرنے کے لیے اپنے فنڈز استعمال کرنے کا اعلان کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے:دنیا کی بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس میں سائبر سکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی کے نتیجے میں 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے اثاثوں کی چوری کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جسے ماہرین نے تاریخ کی بڑی مالی ڈکیتیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس حملے کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر عائد کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واقعے کی خبر سامنے آتے ہی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی اور مختلف ڈیجیٹل اثاثوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ بائنانس نے صورتحال کے پیش نظر رقم نکلوانے کی سہولت عارضی طور پر معطل کردی اور صارفین کے نقصانات پورے کرنے کے لیے کمپنی کے اپنے فنڈز استعمال کرنے کا اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایل سلواڈور میں قائم ٹیتر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل سمیت مختلف اداروں نے چوری شدہ اثاثوں کا تقریباً نصف حصہ منجمد کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

بائنانس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور متاثرہ اثاثوں کی بازیابی کے لیے مختلف شراکت دار اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ کمپنی کے مطابق اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے، تاہم باقی 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

بائنانس کی شریک چیف ایگزیکٹو افسر یی ہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ 3 ارب ڈالر کی رقم کمپنی کے صارفین کے مجموعی اثاثوں اور ظاہر کردہ ذخائر کا تقریباً 2 فیصد ہے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ صارفین کے ممکنہ نقصانات پورے کرنے کے لیے تقریباً 6 ارب 34 کروڑ ڈالر کے اندرونی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ بائنانس کی ویب سائٹ کے مطابق سائبر حملوں کی صورت میں صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک ارب ڈالر کا بٹ کوائن ذخیرہ بھی قائم کیا گیا ہے۔

بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ نے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے پاس اسپیس ایکس کے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے حصص موجود ہیں۔

دوسرے شریک چیف ایگزیکٹو افسر رچرڈ ٹینگ کے مطابق یہ ایک پیچیدہ سائبر حملہ تھا، جس میں متعدد عناصر ملوث تھے۔ حملہ آوروں نے ایک لیپ ٹاپ کو ہیک کیا اور ایسا نقصان دہ سافٹ ویئر استعمال کیا جو اپنی سرگرمیوں کے شواہد مسلسل مٹاتا رہا، جس سے تحقیقات اور حملے کا سراغ لگانے میں مشکلات پیش آئیں۔

رچرڈ ٹینگ نے بتایا کہ ہیکرز نے لین دین کی منظوری دینے والے نظام میں ردوبدل کرکے کمپنی کے زیر کنٹرول انٹرنیٹ سے منسلک مالیاتی ذخیرے سے رقم نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق یہ لین دین معمول کے منظوری کے طریقہ کار سے گزرے بغیر مکمل ہوئیں۔

بائنانس انتظامیہ نے صارفین کو یقین دلایا ہے کہ کمپنی سکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے، متاثرہ اثاثوں کی بازیابی اور صارفین کے ممکنہ نقصانات پورے کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔

 

More News