خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ اہم تجویز زیرِ غور

خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ اہم تجویز زیرِ غور

پشاور: خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے اور انتظامی و پولیس اختیارات وفاقی حکومت کے ماتحت لانے کی تجویز زیرِ غور ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت متعلقہ اضلاع میں انتظامی ڈھانچے اور پولیس نظام میں تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم تاحال اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق مجوزہ منصوبے میں خیبرپختونخوا کے آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع اور چار بندوبستی اضلاع کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ قبائلی اضلاع میں خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں، جبکہ بندوبستی اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت کے نام سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس متوقع ہے، جس میں امن و امان کی صورتحال، متعلقہ اداروں کی رپورٹس اور مختلف آئینی و انتظامی تجاویز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ مجوزہ منصوبے میں صوبائی انتظامی ڈھانچے سے الگ خصوصی سیکرٹریٹ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس سیکرٹریٹ کی سربراہی گریڈ 21 کے بیوروکریٹ کو دینے اور پولیس امور کے لیے گریڈ 21 کے افسر کو تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ، خزانہ، ترقی و منصوبہ بندی سمیت مختلف شعبوں کے چار سے چھ افسران کی تعیناتی بھی مجوزہ منصوبے کا حصہ بتائی جاتی ہے۔

مجوزہ انتظام کے تحت متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس افسران کو نئے تعینات ہونے والے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کے ماتحت کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس سے متعلقہ اضلاع میں انتظامی اور پولیس امور کی نگرانی کے طریقہ کار میں تبدیلی آسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ اس مدت کے بعد حالات کا جائزہ لے کر مزید اقدامات یا توسیع سے متعلق فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس تجویز اور دیگر انتظامی تبدیلیوں کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

آئینی اعتبار سے ایمرجنسی اور گورنر راج الگ الگ معاملات ہیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232، 233 اور 234 میں ہنگامی حالات اور بعض غیر معمولی آئینی اقدامات سے متعلق دفعات موجود ہیں، لیکن ان کے نفاذ کے لیے متعلقہ قانونی و آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔

فی الحال خیبرپختونخوا کے ان 12 اضلاع میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے مجوزہ منصوبے کی حتمی حیثیت، اس کے دائرہ کار اور ممکنہ اثرات کا تعین سرکاری اعلان اور متعلقہ آئینی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

More News