دارالاطفال پشاور میں اختیارات کی جنگ :یتیم بچے سہولیات سے محروم

دارالاطفال پشاور میں اختیارات کی جنگ، یتیم بچے بنیادی سہولیات سے محروم

پشاور: ہشت نگری میں واقع یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم اور تربیت کے لیے قائم دارالاطفال پشاور ان دنوں شدید انتظامی بحران کا شکار ہے۔ ادارے میں چیئرپرسن کی تبدیلی، انتظامی عہدوں پر تنازع اور عدالتی کارروائیوں کے باعث صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ اس کشمکش کے اثرات براہ راست وہاں مقیم یتیم بچوں پر پڑ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق صوبائی وزیر مرحوم بشیر احمد بلور کی اہلیہ نگہت بلور کے چیئرپرسن کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن (اپوا) نے تسنیم ظاہر شاہ کو ادارے کی نئی چیئرپرسن مقرر کیا۔ نئی چیئرپرسن نے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی ادارے کے انتظامی امور کا جائزہ لیا اور مبینہ بدانتظامی، بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں کے الزامات کے تحت ایڈمن یاسمین اعوان کو عہدے سے فارغ کرتے ہوئے نئی ایڈمن تعینات کر دی۔

تاہم سابق ایڈمن یاسمین اعوان نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے چارج چھوڑنے سے انکار کر دیا اور عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت سے حکم امتناعی ملنے کے بعد معاملہ قانونی تنازع کی شکل اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ادارے کے انتظامی معاملات مزید الجھ گئے ہیں۔

چیئرپرسن تسنیم ظاہر شاہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ادارے میں بچوں کو خوراک، علاج، لباس اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں سنگین کوتاہیاں پائی گئی تھیں۔ ان کے مطابق انتظامی اصلاحات کا مقصد بچوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اور انہیں بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری خوراک، صحت کی سہولیات اور تعلیمی ضروریات کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔

دوسری جانب سابق ایڈمن یاسمین اعوان نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی برسوں تک یتیم بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کیا۔ ان کے مطابق انہیں بغیر کسی معقول وجہ کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

ادھر تسنیم ظاہر شاہ کی تقرری کو بھی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے، جس سے ادارے میں قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اختیارات کی اس کشمکش کا سب سے زیادہ نقصان یتیم بچوں کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شفاف تحقیقات اور فوری مداخلت کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنایا جائے تاکہ بچوں کی تعلیم، تربیت اور فلاح متاثر نہ ہو۔

More News