دبئی سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے پرواز میں ہنگامہ، 7 مسافر گرفتار، طیارہ گراؤنڈ کر دیا گیا

دبئی سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے پرواز میں ہنگامہ، 7 مسافر گرفتار، طیارہ گراؤنڈ کر دیا گیا

دبئی سے اسلام آباد آنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی ایک پرواز میں روانگی سے قبل ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد دبئی ایئرپورٹ سیکیورٹی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے سات مسافروں کو گرفتار کر لیا، جبکہ طیارے کو عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز پرواز نمبر PK-212 روانگی کی تیاری کر رہی تھی کہ پرواز میں تاخیر پر بعض مسافروں نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب چند مشتعل افراد نے مبینہ طور پر کاک پٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی اور طیارے کی کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑ دیے، جس سے جہاز میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

کپتان نے فوری طور پر دبئی ایئرپورٹ سیکیورٹی کو صورتحال سے آگاہ کیا، جس پر سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر طیارے میں پہنچ گئے۔ کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی میں ملوث سات مسافروں کو حراست میں لے لیا گیا اور مزید تفتیش کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت طیارے کو گراؤنڈ کر دیا گیا، جبکہ پائلٹس اور کیبن کریو کو ہوٹل منتقل کر دیا گیا تاکہ صورتحال معمول پر آنے کے بعد پرواز کا دوبارہ انتظام کیا جا سکے۔

پی آئی اے کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دبئی ایئرپورٹ حکام کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے باعث پرواز کی روانگی میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ ترجمان کے مطابق اشتعال انگیزی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے مسافروں کو دبئی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جبکہ طیارے کا مکمل حفاظتی معائنہ بھی کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ متاثرہ پرواز کو دوبارہ آپریشنل بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور منصوبہ بندی کے مطابق پرواز کو آج شام دبئی سے اسلام آباد یا کراچی روانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت پی آئی اے کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے تمام حفاظتی ضوابط پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ ہنگامہ آرائی کے اسباب اور اس میں ملوث تمام افراد کے کردار کا تعین کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فضائی سفر کے دوران سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

More News