دنیا کا تیز ترین انسان نما روبوٹ، یوسین بولٹ سے بھی زیادہ رفتار کا دعویٰ
بیجنگ: چین کی ایک روبوٹکس کمپنی نے دنیا کا تیز ترین انسان نما روبوٹ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو رفتار کے معاملے میں دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔
چین کی یونی ٹری روبوٹکس کی جانب سے تیار کیے گئے اس اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹ کو “سپرمین” کا نام دیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق روبوٹ 12.66 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے اور تقریباً 2 میٹر تک چھلانگ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روبوٹ کا قد تقریباً 5 فٹ 7 انچ بتایا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی غیر معمولی رفتار اور جسمانی صلاحیتیں انسان نما روبوٹس کی ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہیں۔
یونی ٹری کے مطابق سپرمین روبوٹ کی زیادہ سے زیادہ رفتار دنیا کے تیز ترین انسان کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ جمیکا کے معروف ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے 2009 میں 100 میٹر کی دوڑ 9.58 سیکنڈ میں مکمل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جو اوسطاً تقریباً 10.44 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار بنتی ہے۔
اس حساب سے کمپنی کی جانب سے بتائی گئی 12.66 میٹر فی سیکنڈ رفتار بولٹ کے مذکورہ ریکارڈ کی اوسط رفتار سے زیادہ ہے۔
تاہم اس روبوٹ کی رفتار سے متعلق دعووں کی ابھی باضابطہ آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ یونی ٹری کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں روبوٹ کی کارکردگی میں مزید بہتری متوقع ہے۔
کمپنی نے روبوٹ کو عوامی سطح پر متعارف کرانے کے ساتھ اسے ٹیکنالوجی کے شائقین اور ماہرین کے سامنے عملی کارکردگی دکھانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ روبوٹ 19 سے 23 اگست کے دوران منعقد ہونے والی ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں بھی ایکشن میں نظر آئے گا۔
یونی ٹری روبوٹکس اس شعبے میں پہلے بھی نمایاں کارکردگی دکھا چکی ہے۔ کمپنی کے روبوٹس نے گزشتہ سال مختلف مقابلوں میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 4 گولڈ میڈلز جیتے تھے۔
نئے سپرمین روبوٹ کی رفتار، چھلانگ لگانے کی صلاحیت اور اے آئی ٹیکنالوجی نے روبوٹکس کی دنیا میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ اگر کمپنی کے دعووں کی باضابطہ تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ انسان نما روبوٹس کی رفتار کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ سپرمین روبوٹ آنے والے مقابلوں اور عملی مظاہروں میں اپنی کارکردگی سے کمپنی کے دعووں کو کس حد تک ثابت کر پاتا ہے۔





