سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا گیا
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا میں قائم صنعتی یونٹس کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا اعلان کردیا ہے، جس کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے والی صنعتوں کو ٹیکس میں ریلیف حاصل ہوگا۔
خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کے پی آر اے) نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے صنعتی یونٹ کا سابق فاٹا یا پاٹا کے علاقوں میں قائم ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ متعلقہ صنعتی یونٹ کا سیلز ٹیکس قانون کے تحت بطور ودہولڈنگ ایجنٹ رجسٹرڈ ہونا بھی ضروری ہوگا۔ استثنیٰ ان خدمات تک محدود ہوگا جو متعلقہ علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے فراہم، انجام اور استعمال کی جائیں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا سے باہر فراہم کی جانے والی بعض خدمات، جن میں ٹرانسپورٹ، انشورنس اور ڈیجیٹل یا ریموٹ ذرائع سے فراہم کی جانے والی خدمات شامل ہیں، اس ٹیکس استثنیٰ کا حصہ نہیں ہوں گی۔
ٹیکس ریلیف کے دائرے میں مختلف شعبوں سے وابستہ صنعتی یونٹس شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں مینوفیکچرنگ، معدنیات، زراعت، جنگلات، انجینئرنگ، آٹا، گھی، ماربل، گرینائٹ، صابن، ادویات، فرنیچر اور اسٹیل ری رولنگ سمیت دیگر صنعتیں شامل ہیں۔
تاہم نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ فرنچائز، برانچ یا ذیلی ادارے کی حیثیت سے کام کرنے والے یونٹس اس سہولت کے اہل نہیں ہوں گے۔
کے پی ریونیو اتھارٹی کے مطابق اگر کوئی صنعتی یونٹ مقررہ شرائط پوری نہیں کرتا یا استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے غلط معلومات فراہم کرتا ہے تو اس کا سیلز ٹیکس استثنیٰ واپس لیا جاسکتا ہے اور قانون کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ٹیکس استثنیٰ یکم اگست 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور 30 جون 2028 تک مؤثر رہے گا۔ تاہم اس کے نفاذ سے قبل جمع کرائے گئے سیلز ٹیکس کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ نہیں کیا جاسکے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس فیصلے کو سابق فاٹا اور پاٹا میں صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دینے اور کاروباری شعبے کو ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔








