سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری، تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنشن میں یہ اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس سے صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ مستفید ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پنشن میں اضافہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کیے گئے اعلان کے مطابق کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد موجودہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی روزمرہ ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے نوٹیفکیشن کے مطابق 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری ملازمین جو یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہوں گے، وہ بھی اس اضافے کے مستحق ہوں گے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق تمام اہل پنشنرز پر یکساں طور پر ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ پنشن میں یہ اضافہ فیملی پنشن حاصل کرنے والوں اور کمپیشنٹ الاؤنس کے مستحق افراد پر بھی لاگو ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم ایسے پنشنرز، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن حاصل کر رہے ہیں، وہ بھی مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
البتہ حکومت نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے دی جانے والی خصوصی اضافی پنشن (Special Additional Pension) پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر اس کا حساب لگایا جائے گا۔
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے حال ہی میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مختلف الاؤنسز میں اضافے کے نوٹیفکیشن بھی جاری کیے تھے۔ ان فیصلوں کے تحت گریڈ 1 سے گریڈ 22 تک تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تنخواہوں میں بھی بجٹ کے مطابق اضافہ نافذ کیا جا چکا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور یوٹیلیٹی بلوں میں اضافے کے باعث ریٹائرڈ ملازمین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے میں پنشن میں 7 فیصد اضافہ اگرچہ مکمل حل نہیں، تاہم یہ پنشنرز کے لیے ایک اہم مالی ریلیف ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی پنشن کے نظام کو مہنگائی کی شرح سے منسلک کرنے پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ بزرگ شہریوں کی آمدنی وقت کے ساتھ اپنی حقیقی قدر برقرار رکھ سکے۔
صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سرکاری ملازمین، پنشنرز اور مختلف ملازم تنظیموں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں پنشن اور تنخواہوں میں اضافہ ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے کسی حد تک مالی سہارا فراہم کرے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اضافی پنشن کی ادائیگی کا عمل آئندہ پنشن کی قسط کے ساتھ شروع کر دیا جائے گا، جس سے لاکھوں پنشنرز براہ راست مستفید ہوں گے۔








