سعودی عرب پر حوثی حملوں میں 73 افراد زخمی، وزیراعظم شہباز شریف کی شدید مذمت
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی بن صالح المالکی کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے مختلف نوعیت کے حملوں کے ذریعے سعودی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جبکہ سعودی اتحاد نے حملوں کا مؤثر جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حملوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے علاوہ یمن کے صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز میں مختلف مقامات پر فضائی حملے اور کروز میزائل داغے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے مزید آزادانہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں حوثی حملوں کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس سے خطے کے امن اور سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
وزیراعظم نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں حالیہ حملوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دعووں کے بعد علاقائی امن کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔








