سندھ ہائی کورٹ کا حکم، وطن واپس جانے والے غیر ملکیوں کی روانگی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان میں مقیم بنگلادیشی شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے ملک واپس جانے والے غیر ملکیوں کی روانگی میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بنگلادیشی شہریوں نے اپنے سفری دستاویزات کی بنیاد پر متعلقہ ہائی کمیشن سے سفری اجازت نامے حاصل کر لیے ہیں، لیکن ایف آئی اے کے امیگریشن حکام انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دے رہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق متعلقہ اداروں سے این او سی کے حصول کے دوران انہیں مشکلات اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ وہ مستقل طور پر اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کے سفری دستاویزات کی وزارت خارجہ سے تصدیق ضروری ہے، جبکہ نادرا کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ان کے شناختی کارڈ بھی بلاک کیے جائیں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ بیرون ملک سفر کا حق قانونی تقاضوں اور متعلقہ ضوابط کی تکمیل سے مشروط ہے اور عدالت امیگریشن قوانین کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ سفری اجازت نامے کی موجودگی میں قانونی کارروائی مکمل کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے اور اس عمل میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ درخواست گزاروں کی وطن واپسی یا ملک بدری کا عمل قانون کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے۔







