سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ، ملکی ذخائر 22.49 ارب ڈالر ہوگئے
کراچی: پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر میں ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17 ارب 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ مرکزی بینک کے ذخائر ملک کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات اور مالیاتی استحکام کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر بھی 5 ارب 44 کروڑ 13 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ سٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر کو ملا کر پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 22 ارب 49 کروڑ 83 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے، درآمدی ادائیگیوں کو منظم رکھنے اور ملکی معیشت میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر ملک کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کا ایک اہم پیمانہ تصور کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ذخائر میں مسلسل بہتری سے مارکیٹ میں اعتماد بحال رکھنے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم ذخائر کی پائیدار سطح برقرار رکھنے کے لیے برآمدات، ترسیلاتِ زر، سرمایہ کاری اور دیگر بیرونی آمدنی کے ذرائع میں اضافہ بھی ضروری ہے۔
پاکستان کی معیشت کے لیے زرمبادلہ ذخائر کی صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک کی بڑی درآمدی ضروریات، خصوصاً توانائی اور صنعتی خام مال کی ادائیگیاں، بیرونی کرنسی میں ہوتی ہیں۔ ذخائر میں بہتری آنے سے ان ادائیگیوں کو منظم کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور بیرونی شعبے پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں سمیت مجموعی ذخائر 22.49 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں، تاہم آنے والے عرصے میں درآمدی بل، قرضوں کی ادائیگی، عالمی مالیاتی حالات اور ڈالر کی آمد و رفت ذخائر کی مجموعی سمت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
حکام اور مالیاتی مارکیٹ کی توجہ اب اس بات پر ہے کہ زرمبادلہ ذخائر میں یہ بہتری مستقل رجحان اختیار کرتی ہے یا نہیں۔ معیشت کے لیے مستحکم اور بڑھتے ہوئے ذخائر روپے کی قدر، درآمدی صلاحیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔






