شام ایران کشیدگی: پاکستانی مفاہمت پر شام کی مشروط آمادگی
اسلام آباد: شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے شام اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے معاملے پر پاکستان کی مفاہمتی کوششوں کے حوالے سے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔
پاکستان کے دورے کے دوران اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ فی الحال دمشق اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات یا نمائندگی کے تبادلے کی بحالی کا وقت نہیں آیا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو شام کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے سے پہلے ماضی میں کیے گئے اقدامات اور ان کے اثرات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے اعتماد سازی اور بنیادی معاملات کا حل ضروری ہے۔
اسعد الشیبانی نے واضح کیا کہ پاکستان نے باضابطہ طور پر دمشق اور تہران کے درمیان ثالثی کی پیشکش نہیں کی، تاہم پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
شامی وزیر خارجہ نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسعد الشیبانی کا دورۂ پاکستان شام اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے باہمی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے روابط مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔





