شمالی وزیرستان میں اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی پر فائرنگ

شمالی وزیرستان میں اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی پر فائرنگ، کوئی جانی نقصان نہیں

میرعلی کے علاقے حدی کرام کوٹ کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ، گاڑی کو ایک گولی لگی، عملہ اور ڈرائیور محفوظ رہے، ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع

شمالی وزیرستان: تحصیل میرعلی کے علاقے حدی کرام کوٹ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ عبدالقیوم کی سرکاری گاڑی پر فائرنگ کردی، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ کی سرکاری گاڑی سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں میرانشاہ سے بنوں کی جانب روانہ تھی۔ گاڑی جب میرعلی تحصیل کے علاقے حدی کے قریب پہنچی تو نامعلوم سمت سے اچانک فائرنگ کی گئی۔

فائرنگ کے نتیجے میں سرکاری گاڑی کو ایک گولی لگی، تاہم گاڑی میں موجود عملہ اور ڈرائیور محفوظ رہے۔ واقعے کے وقت اسسٹنٹ کمشنر عبدالقیوم خود سرکاری گاڑی میں موجود نہیں تھے، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آوروں کی تلاش اور گرفتاری کے لیے اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ سکیورٹی ادارے فائرنگ کے مقام، حملہ آوروں کی موجودگی اور واقعے کے ممکنہ محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاحال کسی گروہ یا تنظیم کی جانب سے فائرنگ کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر بھی نگرانی بڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں سرکاری افسران اور انتظامیہ کو ماضی میں بھی سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ سرکاری حکام کی نقل و حرکت کے دوران سکیورٹی انتظامات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سابق اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ شاہ ولی خان کو بھی بنوں کی حدود میں اس وقت فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا تھا جب وہ میرانشاہ سے بنوں کی جانب سفر کر رہے تھے۔

سابق اسسٹنٹ کمشنر کے قتل کے واقعے کے بعد بھی سرکاری افسران کی سکیورٹی اور حساس علاقوں میں ان کی نقل و حرکت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

حالیہ فائرنگ کے واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمان تک پہنچنے کے لیے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر حملہ آوروں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واقعے میں کوئی جانی نقصان نہ ہونا ایک اہم پہلو ہے، تاہم سرکاری گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے باعث علاقے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائیں گے۔

More News