شہدا کی توہین ناقابلِ قبول، مولانا فضل الرحمان قوم سے معافی مانگیں: سپیکر پنجاب اسمبلی
لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ شہدا کی تضحیک اور افواجِ پاکستان کے خلاف توہین آمیز بیانات کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حالیہ بیان پر پوری قوم سے معافی مانگیں، کیونکہ شہدا کی قربانیوں کا احترام ہر پاکستانی پر لازم ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، تاہم قومی اداروں، افواجِ پاکستان اور شہدا کے احترام پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ملک کی ایک بڑی اور اہم سیاسی جماعت ہے، لیکن مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان سے انہیں شدید اختلاف ہے اور وہ اسے مناسب نہیں سمجھتے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور شہدا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں شہدا یا قومی اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کی توہین آمیز گفتگو ناقابلِ برداشت ہے اور اس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر تمام سیاسی رہنماؤں کو ذمہ داری، برداشت اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کو اس انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے کہ اس سے قومی اداروں کے وقار یا عوام کے جذبات مجروح ہوں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے دہشتگردی کے مسئلے پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات مناسب راستہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو عناصر مساجد، امام بارگاہوں، عدالتوں، تعلیمی اداروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، انہیں سیاسی جدوجہد کرنے والے افراد کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ ایسے عناصر کے خلاف ریاست کو قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات، ٹرین حملوں اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک دشمن عناصر پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست کی اولین ذمہ داری دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے، نہ کہ ان سے مذاکرات کرنا۔
ملک محمد احمد خان نے مزید کہا کہ اگر کسی سیاسی رہنما کا مؤقف فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کا ہے تو اسے ہر دور میں یکساں ہونا چاہیے اور بیانات میں تسلسل برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو وقتی سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے انتخابی تنازعات کے حوالے سے کہا کہ ایسے معاملات کا حل سڑکوں پر احتجاج کے بجائے آئینی اور قانونی فورمز، خصوصاً الیکشن ٹریبونلز، کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی، ریاستی اداروں کے احترام، افواجِ پاکستان کے وقار اور شہدا کی قربانیوں کا تحفظ ہر صورت مقدم رہنا چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کو اسی اصول کے تحت آگے بڑھنا چاہیے۔








