صحت کارڈ کا بجٹ 51 ارب روپے، 3 سال میں 25 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے: مزمل اسلم
پشاور: مشیر خزانہ مزمل اسلم اور وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا ہے کہ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور حکومت عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے صحت کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں مزمل اسلم نے بتایا کہ رواں مالی سال صحت کارڈ کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ تین سال کے دوران 25 لاکھ سے زیادہ افراد صحت کارڈ سے مستفید ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق اس عرصے میں صحت کارڈ پروگرام پر 100 ارب روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے مہنگے علاج، خصوصاً گردے اور جگر کی پیوند کاری جیسی طبی سہولیات بھی صحت کارڈ کے ذریعے مفت فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگے علاج تک عام شہریوں کی رسائی یقینی بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
مشیر خزانہ نے مختلف صوبوں میں ایچ آئی وی کے سامنے آنے والے کیسز کے اعداد و شمار بھی بیان کیے۔ ان کے مطابق پنجاب میں 60 ہزار 739، سندھ میں 31 ہزار سے زائد، خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 655 جبکہ اسلام آباد میں 5 ہزار سے زیادہ ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ 2013 سے اب تک محکمہ صحت میں متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان کے مطابق یونیورسل ہیلتھ انڈیکس 2015 میں 36.2 فیصد تھا جو 2024 میں بڑھ کر 53.5 فیصد ہوگیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے اور رواں سال صحت کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیر صحت نے صحت کارڈ کو ایک اہم فلاحی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادویات کی خریداری کا عمل بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 72 اسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر بھی کام جاری ہے، جبکہ ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
خلیق الرحمان نے بتایا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت متعدد مراکز صحت میں بہتری آئی ہے۔ اسپتالوں کے آڈٹ، ملاکنڈ اور کوہاٹ سمیت مختلف اضلاع میں نئے اسپتالوں کے قیام اور مریضوں کے طبی ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا، علاج کی رسائی بڑھانا اور سرکاری نظام صحت کو مزید مؤثر بنانا ہے۔








