صومالی قزاقوں کا 3 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ، قومی اسمبلی میں پاکستانی یرغمالیوں کا معاملہ زیر بحث

صومالی قزاقوں کا 3 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ، قومی اسمبلی میں پاکستانی یرغمالیوں کا معاملہ زیر بحث

اسلام آباد: صومالیہ کے بحری قزاقوں کے ہاتھوں 10 پاکستانیوں کے یرغمال بنائے جانے کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث آگیا، جہاں حکومت اور اپوزیشن ارکان نے مغوی پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ صومالی قزاقوں نے پاکستانی شہریوں کی رہائی کے بدلے 3 ملین ڈالر تاوان طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یا متعلقہ ادارے تاوان ادا کرتے ہیں تو اس سے مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق صومالیہ کے ساتھ پاکستان کے براہ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں، تاہم جبوتی اور لندن میں پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ اس معاملے کو متحرک انداز میں دیکھ رہا ہے اور حکومت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستانی شہریوں کی جلد اور بحفاظت رہائی ممکن بنائی جائے۔

طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ جس علاقے میں پاکستانی شہریوں کو لے جانے والا بحری جہاز موجود ہے، وہاں صومالی حکومت کی مکمل عمل داری نہیں۔ ان کے مطابق جہاز جس ملک کے پرچم تلے سفر کررہا تھا، اس جانب سے بھی جہاز کی ذمہ داری لینے کے حوالے سے مسائل سامنے آئے ہیں، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

قومی اسمبلی میں گفتگو کے دوران تاوان کی ادائیگی کے معاملے پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی متاثرہ پاکستانیوں کی رہائی کے لیے 22 کروڑ روپے دینے کو تیار ہیں، جبکہ باقی رقم کا انتظام حکومت کرے۔

فاروق ستار نے کہا کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے واقعات میں پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کیا گیا ہے اور بعض مواقع پر تاجروں سے بھی مالی مدد لی گئی تھی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مغوی پاکستانیوں کے خاندانوں کو صورتحال سے واضح طور پر آگاہ کیا جائے اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔

فاروق ستار کے مطابق قزاقوں کی جانب سے طلب کیا جانے والا 3 ملین ڈالر کا تاوان پاکستانی کرنسی میں تقریباً 75 سے 85 کروڑ روپے کے درمیان بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف موجودہ مغویوں تک محدود نہیں، بلکہ خطے میں مزید بحری جہازوں اور ان کے عملے کو بھی یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق مغوی پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سفارتی اور دیگر ممکنہ ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں، جبکہ تاوان کی ادائیگی کے معاملے میں اس کے مستقبل کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جارہا ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔

More News