عالمی منڈی میں سونے کی قیمت پھر 4,400 ڈالر کے قریب، شرح سود پر سرمایہ کاروں کی نظریں

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت پھر 4,400 ڈالر کے قریب، شرح سود پر سرمایہ کاروں کی نظریں

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت ایک بار پھر 4,400 ڈالر فی اونس کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باوجود کمزور امریکی اقتصادی اعداد و شمار نے قیمتی دھات کو دوبارہ سپورٹ فراہم کی ہے۔

رائٹرز کے مطابق 14 اگست کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد بڑھ کر 4,379.95 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد اضافے کے بعد 4,437.30 ڈالر پر بند ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق کمزور امریکی ڈالر اور افراطِ زر سے متعلق اعداد و شمار نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے اگلے ماہ شرح سود برقرار رکھنے کی توقعات کو مضبوط کیا۔

امریکی معیشت سے متعلق تازہ اعداد و شمار بھی مارکیٹ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ جولائی میں امریکی ریٹیل سیلز میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ نو ماہ میں پہلی کمی اور 14 ماہ کی سب سے بڑی کمی تھی۔ اس صورتحال نے امریکی معیشت میں صارفین کے اخراجات کی رفتار سست ہونے کے خدشات کو بڑھایا ہے اور فیڈ کی شرح سود کے بارے میں مارکیٹ کی توقعات کو متاثر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق عام طور پر کم شرح سود کا ماحول سونے کے لیے سازگار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ سونا کوئی باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔ جب شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوتے ہیں تو سرمایہ کار سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی جانب زیادہ متوجہ ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب حالیہ تیزی کے بعد منافع حاصل کرنے کے رجحان نے سونے کی قیمت پر وقتی دباؤ بھی ڈالا۔ 13 اگست کو سونا دو ماہ کی بلند ترین سطح 4,449.39 ڈالر تک پہنچنے کے بعد منافع خوری کے باعث ایک فیصد سے زیادہ نیچے آگیا تھا۔

اس کے باوجود عالمی مارکیٹ میں سونے کی مجموعی سمت مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ جغرافیائی کشیدگی، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری، کمزور معاشی اشارے اور امریکی ڈالر میں اتار چڑھاؤ قیمتی دھات کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اگست میں سونے کی قیمت تقریباً 4,400 ڈالر کے آس پاس رہی، جبکہ مرکزی بینکوں کی جانب سے خریداری بھی مارکیٹ کو سہارا دے رہی ہے۔

اب سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں، امریکی اقتصادی اعداد و شمار اور عالمی حالات پر مرکوز ہیں، جو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت کی نئی سمت طے کرسکتے ہیں۔

More News