عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر 130 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، علی پرویز ملک

عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر 130 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، علی پرویز ملک

علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں کو مشکلات کا سامنا ہے، وفاقی وزیر پیٹرولیم

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔

علی پرویز ملک کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنے مالی وسائل استعمال کیے اور پیٹرولیم مصنوعات پر مجموعی طور پر 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح عوام کو عالمی توانائی بحران کے منفی اثرات سے زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور سپلائی چین برقرار رکھنے کے لیے بھی ہر ممکن اقدامات کیے گئے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی سمیت خطے کے حالات نے عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث درآمدی ممالک کو اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی منڈی سے پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کے براہ راست اثرات ملکی معیشت اور صارفین پر پڑتے ہیں۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ حکومت نے موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کا مقصد عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محدود کرنا اور عوام پر اضافی مالی بوجھ کم کرنا ہے۔ تاہم عالمی توانائی منڈی میں صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور آئندہ دنوں میں قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کے مفاد میں دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ضروری اقدامات کیے جاتے رہیں گے۔

More News