وزیراعظم اور ایرانی صدر کی ملاقات، علاقائی امن و استحکام کیلئے سفارتی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
پاک ایران تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، مسعود پزشکیان
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن و استحکام کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے رواں سال جون میں ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور کیے گئے فیصلوں پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کو مزید تیز کیا جائے۔
ملاقات میں علاقائی روابط کے فروغ اور پاکستان و ایران کے درمیان عوامی سطح پر رابطوں کو مزید بڑھانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے دیگر شعبوں میں روابط کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجود دیرینہ تعلقات کو عملی تعاون میں تبدیل کرتے ہوئے عوامی اور معاشی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
بشکیک میں ہونے والی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو علاقائی امن، استحکام اور باہمی تعاون کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔




