غلطی کی گنجائش نہیں، امریکی صدر کا مذاکرات کاروں کو جلد بازی نہ کرنے کی ہدایت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات کاروں کو جلد بازی نہ کرنے کی ہدایت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اپنے نمائندوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جلد بازی سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور کسی بھی قسم کی غلطی کی گنجائش نہیں، اس لیے تمام معاملات کو مکمل احتیاط اور درست انداز میں طے کرنا ضروری ہے۔

ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکی تعلقات اب پہلے سے زیادہ پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام نکات پر مکمل اتفاق ضروری ہے۔

امریکی صدر نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے ایٹمی معاہدے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا جوہری معاہدہ امریکا کی تاریخ کے بدترین معاہدوں میں سے ایک تھا کیونکہ اس نے ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔ ٹرمپ کے مطابق موجودہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدہ اس پالیسی کے بالکل برعکس ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقوں کو وقت لے کر ہر معاملے کو درست انداز میں طے کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت دی ہے کہ کسی دباؤ یا جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا، ایران کے خلاف پابندیاں اور ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ وہ جوہری ہتھیار یا ایٹمی بم تیار نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا تعاون اور حمایت امریکا کے لیے اہم ہے، اور وہ اس حمایت پر تمام اتحادی ممالک کے شکر گزار ہیں۔

ٹرمپ نے ابراہم معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر خطے کے مزید ممالک اس معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو علاقائی تعاون اور استحکام مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے مستقبل میں ایران بھی کسی مرحلے پر اس معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر کرے۔

اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پر زیادہ بات نہیں کر سکتے کیونکہ تمام معاملات ان کے اختیار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس حوالے سے کوئی خبر سامنے آئے گی تو وہ صرف اچھی خبر ہوگی کیونکہ وہ کبھی خراب معاہدے نہیں کرتے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کی نظریں ان مذاکرات اور ان کے ممکنہ نتائج پر مرکوز ہیں۔

More News