فضل الرحمان کے قریبی ساتھی امان اللہ پر قانون کا شکنجہ تنگ، ایف آئی اے اور سی ڈی اے کے سخت نوٹس جاری

مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی امان اللہ کو ایف آئی اے اور سی ڈی اے کے نوٹس جاری

مالی بے ضابطگیوں کی انکوائری میں ایف آئی اے نے 4 نومبر کو طلب کر لیا، سی ڈی اے کا غیر قانونی تعمیرات اور سرکاری اراضی سے متعلق معاملے پر بھی نوٹس

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی امان اللہ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق دونوں اداروں نے مختلف معاملات میں کارروائی کرتے ہوئے امان اللہ سے وضاحت اور متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کے کمرشل بینکنگ سرکل نے مالی بے ضابطگیوں سے متعلق جاری انکوائری کے سلسلے میں امان اللہ کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری نوٹس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 4 نومبر کو متعلقہ دفتر میں پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان کریں اور انکوائری سے متعلق ضروری دستاویزی اور ڈیجیٹل شواہد بھی ساتھ لائیں۔

دوسری جانب اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات، سرکاری اراضی پر مبینہ قبضوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران سی ڈی اے نے بھی امان اللہ کو الگ نوٹس جاری کیا ہے۔ تاہم دستیاب تفصیلات میں سی ڈی اے کے نوٹس میں درج مخصوص اعتراضات اور مطلوبہ دستاویزات کی مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق امان اللہ اسلام آباد کے پوش سیکٹر جی سکس فور کی گلی نمبر 83 میں واقع اس مکان کے مالک ہیں جہاں مولانا فضل الرحمان رہائش پذیر ہیں۔ اسی تعلق کے باعث اس معاملے کو سیاسی اور عوامی حلقوں میں بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے قریبی حلقوں سے وابستہ بعض دیگر افراد کے مالی معاملات اور جائیدادوں سے متعلق ریکارڈ کی بھی جانچ پڑتال جاری ہے۔ اطلاعات میں فرنٹ مین کے مبینہ کردار اور مختلف مالی لین دین کا جائزہ لیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ اداروں کی جانب سے باضابطہ تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق کسی شخص کو انکوائری کے لیے طلب کیا جانا بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔ تحقیقات کے دوران متعلقہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور شواہد فراہم کرنے کا موقع دیا جانا ضروری ہے۔

فی الحال ایف آئی اے اور سی ڈی اے کی کارروائیوں کے حوالے سے امان اللہ یا جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ انکوائریوں کے نتائج اور متعلقہ اداروں کی مزید کارروائی سے معاملے کی نوعیت واضح ہو سکے گی۔

More News