قومی اسمبلی نے ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جبکہ ایوان میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 بھی کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور واک آؤٹ بھی دیکھنے میں آیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 ایوان میں پیش کیا، جسے بحث اور کارروائی کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔ مجوزہ ترامیم کے تحت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی تشکیل اور ساخت میں اہم تبدیلیاں کی جائیں گی۔
ترمیمی بل کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں شامل کیا جائے گا، جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو اتھارٹی کی تشکیل سے ہٹا دیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد ملک کے نئے آئینی اور دفاعی ڈھانچے کے مطابق قانونی و انتظامی نظام کو ہم آہنگ کرنا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن نے اس وقت احتجاج کیا جب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کو ایوان میں اظہارِ خیال کا موقع نہیں دیا گیا۔ اپوزیشن ارکان نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
حکومتی مؤقف کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں بعض ترامیم ضروری ہوگئی تھیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی کے ذریعے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق قانونی، انتظامی اور ادارہ جاتی معاملات کو نئے آئینی فریم ورک کے مطابق ترتیب دیا جائے گا۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ بھی ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے چکی تھی، جس کے بعد اسے پارلیمانی کارروائی کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
بل کی منظوری کے موقع پر ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سیاسی اختلافات بھی نمایاں رہے۔ اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ اہم قانون سازی کے دوران ارکان کو مناسب طور پر بات کرنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے، جبکہ حکومت نے قانون سازی کا عمل آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق جاری رکھا۔
قومی اسمبلی میں بل کی منظوری کے بعد اجلاس کو مزید کارروائی کے لیے جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
ڈیفنس فورسز اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق یہ ترامیم ملک کے دفاعی اور ادارہ جاتی نظام میں اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ آئندہ مرحلے میں ان ترامیم کے نفاذ کے بعد متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور ساخت پر اس کے اثرات سامنے آئیں گے۔






