لاہور میں شہریوں سے عیدی مانگنے والے پولیس اہلکار گرفتار، مقدمات درج

لاہور میں شہریوں سے عیدی مانگنے والے پولیس اہلکار گرفتار، محکمہ پولیس کا سخت ایکشن

لاہور میں شہریوں سے عیدی کے نام پر رقم طلب کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف بھیک مانگنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور شہریوں کو ہراساں کرنے کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر پولیس کے بعض اہلکاروں کے رویوں اور اختیارات کے غلط استعمال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ محکمہ پولیس نے واضح کیا ہے کہ ایسے عناصر کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں۔

اطلاعات کے مطابق لاہور کے علاقوں شاہدرہ اور اسلام پورہ میں پولیس اہلکار شہریوں سے عیدی کے نام پر رقم طلب کر رہے تھے۔ شہریوں کی شکایات سامنے آنے کے بعد پولیس حکام نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیا اور محکمانہ انکوائری شروع کی گئی۔ انکوائری کے دوران الزامات درست ثابت ہوئے، جس کے بعد متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف گداگری ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور محکمانہ سطح پر بھی ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس طرح کے واقعات نہ صرف پولیس کے وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام سے پیسے لینے والے اہلکاروں کے لیے محکمہ پولیس میں کوئی جگہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا کام شہریوں کی حفاظت اور خدمت کرنا ہے، نہ کہ انہیں ہراساں کرنا یا غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ پولیس نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہوئی ہے، اور ایسے اہلکاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

ماہرین کے مطابق پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں سے عیدی یا دیگر بہانوں سے رقم طلب کرنا نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ یہ قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اس طرح کے واقعات عوام میں خوف، بے اعتمادی اور مایوسی کو جنم دیتے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس اصلاحات اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد صارفین نے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بدعنوان اہلکاروں کے خلاف مستقل بنیادوں پر سخت احتساب کیا جائے۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ اگر فوری کارروائی نہ کی جاتی تو ایسے عناصر مزید شہریوں کو ہراساں کر سکتے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے میں پولیس کی فوری کارروائی ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ محکمہ اپنے اندر موجود بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف گرفتاری کافی نہیں بلکہ ایسے اہلکاروں کو سخت سزائیں دینا بھی ضروری ہے تاکہ دوسروں کے لیے مثال قائم ہو سکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی بھی اہلکار کی جانب سے غیر قانونی مطالبات یا ہراسانی کا سامنا ہو تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔ محکمہ پولیس کے مطابق عوام کے اعتماد کی بحالی اور شفافیت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

More News