ایران اور امریکا معاہدے کے قریب، خطے میں نئی سفارتی پیش رفت کی امید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بیشتر معاملات طے پا چکے ہیں۔ ان کے مطابق جلد ہی اس معاہدے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست میں ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور زیادہ تر نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ آبنائے ہرمز کو بھی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکی صدر نے اس اہم پیش رفت میں مختلف مسلم ممالک کے رہنماؤں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت کئی اہم مسلم رہنماؤں سے مشاورت کی گئی۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، ترک صدر رجب طیب اردوان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں استحکام پیدا کر سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے پر کشیدگی کم ہوتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام آنے کا امکان ہے، جس سے مختلف ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان نے بھی اس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور بہت جلد پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔ وزیراعظم کے مطابق صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی کانفرنس کال انتہائی مفید اور تعمیری رہی جبکہ پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس میں مسلم ممالک کے ساتھ قریبی رابطے اور مذاکراتی عمل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایران کے ساتھ معاہدہ اگر کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ کئی برسوں سے جاری کشیدگی میں کمی لانے کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی مبصرین اس پیش رفت کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایران اور امریکا کے تعلقات طویل عرصے سے تنازعات، پابندیوں اور سفارتی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک نئی سمت متعین کر سکتا ہے۔








