لاہور میں 8 سالہ طالب علم پر مبینہ تشدد، خاتون ٹیچر حراست میں
لاہور کے علاقے بادامی باغ میں 8 سالہ طالب علم پر مبینہ تشدد کے الزام میں پولیس نے خاتون ٹیچر کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق واقعے سے متعلق درخواست موصول ہونے کے بعد کارروائی کی گئی، جبکہ متاثرہ بچے کے والدین کی جانب سے ٹیچر پر تشدد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دوسری جماعت کے طالب علم عدنان سلطان کے ساتھ مبینہ طور پر کلاس روم میں تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ درخواست گزار کے مطابق خاتون ٹیچر نے بچے کو چھڑی سے مبینہ طور پر مارا، جس کے نتیجے میں اس کے سر پر چوٹ آئی اور وہ زخمی ہوگیا۔
واقعے کے بعد بچے کے اہل خانہ نے پولیس سے رجوع کیا اور مبینہ تشدد میں ملوث ٹیچر کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دی۔ پولیس نے شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے خاتون ٹیچر کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق خاتون ٹیچر کے خلاف دفعہ 328 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دستیاب شواہد کی روشنی میں معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
بچے پر مبینہ تشدد کے واقعے نے اسکولوں میں طلبہ کے تحفظ اور اساتذہ کے رویے سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ والدین کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے جسمانی تشدد کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور شکایات کی صورت میں مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
دوسری جانب قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد واقعے کے حقائق مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ پولیس کی جانب سے تفتیش کے دوران بچے کے بیان، میڈیکل رپورٹ اور دیگر متعلقہ شواہد کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
حکام کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔ واقعے میں خاتون ٹیچر پر عائد الزامات تفتیش کے مرحلے میں ہیں، جبکہ حتمی ذمہ داری کا تعین قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔







