میر رضا کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کا معاملہ، اسٹیٹ بینک سے جواب طلب
سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا کے بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی تفصیلات حاصل کرنے سے متعلق تفتیشی حکام کی درخواست پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو یکم اکتوبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا کے بینک اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشنز کی تفصیلات حاصل کرنے سے متعلق تفتیشی حکام کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے تفتیشی حکام سے استفسار کیا کہ وہ میر رضا کے بینک اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشنز کی تفصیلات کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
تفتیشی حکام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ میر رضا کے خلاف تفتیش جاری ہے اور اس سلسلے میں یہ معلوم کرنا مقصود ہے کہ ان کے اکاؤنٹس میں رقم کہاں سے آتی رہی، کہاں منتقل ہوئی اور کن افراد کے ساتھ مالی لین دین کیا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر بینک ٹرانزیکشنز کی تفصیلات درکار ہیں تو بینک سے رپورٹ حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک حکام سے رابطہ کیا گیا تھا، تاہم انہیں بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے بغیر مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔
تفتیشی حکام نے عدالت کو مزید بتایا کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ میر رضا کے کتنے بینک اکاؤنٹس ہیں اور وہ کن کن بینکوں میں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے معلومات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان کا مقصد میر رضا کے بینک اکاؤنٹس کی تعداد، متعلقہ بینکوں اور ان میں ہونے والی مالی ٹرانزیکشنز سے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے۔ تفتیشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ ممکن ہے بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی تفصیلات جاری تفتیش میں معاون ثابت ہوں اور اس سے رقم کی منتقلی اور متعلقہ افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔
عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی۔ اب اسٹیٹ بینک کی جانب سے عدالت کو بتایا جائے گا کہ تفتیشی حکام کو مطلوبہ بینکنگ معلومات فراہم کرنے کے لیے عدالتی حکم یا دیگر قانونی تقاضے کیا ہیں۔








