متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، نیا بل لانے کی تیاری
سینیٹ سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 واپس لینے کی درخواست جمع، قانون سازی کا عمل تیز کرنے کیلئے نیا بل پیش کیا جائے گا
وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 کو سینیٹ سے واپس لینے کیلئے درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔ حکومت نے موجودہ بل واپس لے کر قانون سازی کے عمل کو نئے سرے سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق موجودہ بل 90 روز کی مدت مکمل ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چلا جاتا ہے، تاہم مستقبل قریب میں مشترکہ اجلاس کا انعقاد یقینی نہیں۔ ایسی صورتحال میں قانون سازی کے عمل میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے، اسی لیے حکومت نے بل واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ قانون سازی کا عمل تیز کرنے کیلئے ایک نیا ترمیمی بل پیش کیا جائے گا، جو موجودہ بل کے بنیادی مقاصد اور اہم نکات کا احاطہ کرے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 رواں سال 15 جون کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، جبکہ قومی اسمبلی اسے جون میں چھ ترامیم کے ساتھ منظور کر چکی تھی۔
بل کے اہم نکات میں ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق رائٹ آف وے کے معاملات بھی شامل ہیں۔ رائٹ آف وے سے مراد ٹیلی کام کمپنیوں کو فائبر آپٹک کیبلز، موبائل ٹاورز، سمال سیلز اور دیگر مواصلاتی انفراسٹرکچر نصب کرنے کے لیے زمین، سڑک، گلی یا دیگر املاک سے گزرنے یا انہیں استعمال کرنے کی اجازت دینا ہے۔
حکومت کے مطابق نئے بل کے ذریعے قانون سازی کے عمل کو مؤثر اور تیز بنانے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ ٹیلی کام شعبے سے متعلق بنیادی اصلاحات اور مطلوبہ نکات کو نئے قانونی مسودے میں شامل کیا جائے گا۔
بل واپس لینے کے فیصلے کے بعد اب حکومت کی جانب سے نئے مسودے کی تیاری اور اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا مرحلہ اہم ہوگا۔ نئے بل کی منظوری کے بعد ٹیلی کام انفراسٹرکچر اور رائٹ آف وے سے متعلق معاملات کے لیے قانونی فریم ورک مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔








