پارلیمنٹ کا سانحہ پمز کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ، خصوصی کمیٹیاں بنانے کی تحاریک منظور
اسلام آباد: پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خصوصی پارلیمانی کمیٹیاں بنانے کی تحاریک منظور کرلی ہیں۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تحقیقات میں اپوزیشن کو بھی شامل کیا جائے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ سانحے میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ذمہ دار افسران کو جواب دہ بنایا جائے گا اور کسی رکن پارلیمنٹ کو سفارش کے ذریعے کسی افسر کی برطرفی رکوانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ محض کمیٹیوں اور تاریخوں تک معاملے کو محدود کرنے کے بجائے عملی تجاویز اور روڈ میپ پیش کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ سانحہ پمز کی تحقیقاتی کمیٹی اپنی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جبکہ تفصیلی رپورٹ سات روز میں مکمل کی جائے گی۔ ان کے مطابق رپورٹ کی روشنی میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے انکوائری کمیٹیاں بنانے کے بجائے سرکاری اسپتالوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے تنخواہ لینے والے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی سرکاری اسپتالوں میں علاج کروانا چاہیے تاکہ ان اداروں کی حالت بہتر ہوسکے۔
راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا کہ بچوں کی ہلاکت کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، جبکہ پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے اپوزیشن کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے سانحہ پمز کو محض غفلت نہیں بلکہ ’’قتل‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متاثرہ والدین پر دباؤ بھی ڈالا گیا۔ انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔







