ملک میں بارشوں کا نیا سلسلہ، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا

ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث زور پکڑنے لگی

اسلام آباد: ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑنے لگی ہے، جبکہ ماہرین اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام قومی سطح پر مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کے موجودہ انتظامی نظام، نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور مقامی حکومتوں کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مباحثے میں اس سوال کا جائزہ لیا گیا کہ آیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں یا موجودہ نظام میں اصلاحات کے ذریعے عوامی مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں حل کیا جاسکتا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں پر مشتمل موجودہ انتظامی نظام عوامی مسائل کے حل میں مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور عوامی ضروریات میں اضافے کے باعث انتظامی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔

مباحثے میں تجویز پیش کی گئی کہ پاکستان کو چار صوبوں کے موجودہ انتظامی ڈھانچے سے آگے بڑھتے ہوئے 33 مقامی حکومتوں پر مشتمل مؤثر اور بااختیار نظام کی طرف جانا چاہیے۔ مقررین کے مطابق اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا مستقل اور دیرپا حل ممکن نہیں۔

شرکا کا کہنا تھا کہ بااختیار مقامی حکومتیں وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ہر شہری کو اپنے مسائل کے حل کے لیے مقامی حکومت تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ مقامی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات دینے سے شہری سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی کے عمل کو بھی تیز کیا جاسکتا ہے۔

مقررین نے کہا کہ عوام کے بیشتر بنیادی مسائل مقامی نوعیت کے ہوتے ہیں، جن میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی کی فراہمی، اسکولوں کی صورتحال، بنیادی صحت کی سہولیات اور دیگر شہری خدمات شامل ہیں۔ ان مسائل کا بہتر حل اسی صورت ممکن ہے جب متعلقہ فیصلے مقامی سطح پر کیے جائیں۔

مباحثے میں تعلیم، صحت، صفائی اور شہری ترقی سمیت متعدد شعبوں کے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ شرکا کے مطابق صرف اختیارات کی منتقلی کافی نہیں بلکہ مقامی اداروں کو مناسب مالی وسائل، انتظامی اختیار اور فیصلہ سازی کی آزادی بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔

شرکا نے زور دیا کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کا مقصد صرف نئے صوبوں یا یونٹس کا قیام نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جو عوام کو بنیادی سہولیات بروقت اور مؤثر انداز میں فراہم کرسکے۔

مباحثے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر سیاسی اختلافات کے بجائے قومی سطح پر سنجیدہ اور بامقصد مکالمہ کیا جائے، جبکہ اختیارات و وسائل نچلی سطح تک منتقل کرکے عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے۔

More News