مولانا فضل الرحمان 10 سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، بتائیں کیا کیا؟ خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تقریباً 10 سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، تاہم انہیں بتانا چاہیے کہ اس دوران انہوں نے کیا اقدامات کیے۔
مولانا فضل الرحمان ستمبر 2008 میں قومی اسمبلی کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور تقریباً ایک دہائی تک اس عہدے پر فائز رہے۔
ماضی میں بھی ان کی سربراہی میں کشمیر کمیٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اکتوبر 2020 میں اس وقت کے چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے 10 سالہ دور میں کمیٹی کے صرف 24 اجلاس ہوئے اور کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر رابطوں میں بھی کمی رہی تھی۔
دوسری جانب کشمیر کمیٹی کا بنیادی مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا، مسئلہ کشمیر کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے سفارتی و اخلاقی حمایت متحرک کرنا ہے۔
خواجہ آصف کے بیان نے مولانا فضل الرحمان کے سابقہ سیاسی کردار اور کشمیر کمیٹی کی کارکردگی سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔








