مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو نئے نوٹسز کیوں جاری ہوئے؟
ہراسانی کیس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اداکارہ مومنہ اقبال اور پنجاب اسمبلی کے رکن ثاقب چدھڑ کو نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد دوبارہ نوٹسز جاری کردیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں کو مبینہ طور پر اہم نجی معلومات اور ڈیجیٹل شواہد چھپانے کے معاملے پر نوٹسز جاری کیے گئے۔ تحقیقات کے دوران موبائل فونز کے فارنزک تجزیے سے ایسی چیٹس اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں جو مبینہ طور پر پہلے تفتیشی ادارے کو فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فارنزک ڈیٹا میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو مختلف افراد کو بھیجے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد تحقیقاتی عمل کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد این سی سی آئی اے نے معاملے کی ازسرنو تحقیقات کے لیے خصوصی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بھی تشکیل دے دی ہے۔ ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق خصوصی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر عہدے کا افسر کرے گا۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم نئے ڈیجیٹل شواہد، سابقہ ریکارڈ اور کیس سے متعلق دیگر معلومات کا تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ معاملے کے مختلف پہلوؤں کا تعین کیا جاسکے۔
ذرائع کے مطابق نئی جے آئی ٹی ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے کو پیش کرے گی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چالان عدالت میں جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے نئے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو دوبارہ نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ کیس کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔








