مون سون کے دوسرے طاقتور اسپیل کی پیشگوئی،الرٹ جاری

مون سون کے دوسرے طاقتور اسپیل کی پیشگوئی، پنجاب بھر میں الرٹ جاری، اربن فلڈنگ کا خدشہ

لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے میں مون سون بارشوں کے دوسرے طاقتور اسپیل کے پیش نظر 19 سے 23 جولائی تک ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق اس دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور موسلادھار بارشوں کا امکان ہے، جبکہ کئی بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ سمیت متعدد بڑے شہروں میں شدید بارشوں کے باعث سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح راولپنڈی کے نالہ لئی، مری، گلیات اور دیگر برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

محکمہ نے بتایا کہ 19 سے 23 جولائی کے دوران راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب اور چنیوٹ میں موسلادھار بارش متوقع ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کے اضلاع نورپور تھل، بھکر، میانوالی، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، رحیم یار خان اور راجن پور میں 20 سے 24 جولائی کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ریسکیو 1122، واسا، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل رکھے جائیں۔ مشینری، ریسکیو ٹیموں اور نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔

اعلامیے میں شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں، خستہ حال عمارتوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں، جبکہ آندھی اور گرج چمک کے دوران محفوظ مقامات پر قیام کریں۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی موسمی معلومات پر عمل کریں۔

More News