مکہ دفاعی اتحاد کے کوئی علاقائی عزائم نہیں، مقصد دفاع ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں، اس کی نوعیت مکمل طور پر دفاعی ہے، جس کا مقصد کم سے کم دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
ال عریبیہ انگلش کے پروگرام ’گلوبل نیوز ٹوڈے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ معاہدے میں کچھ بھی جارحانہ نہیں ہے، کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں۔ یہ اجتماعی دفاعی صلاحیت ہے اور اس کی نوعیت اجتماعی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں کہیں بھی اسے ’’مسلم اتحاد‘‘ قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اس کا مقصد علاقائی استحکام کا اتحاد قائم کرنا ہے۔ یہ صرف مسلم ممالک کے لیے بنایا جانے والا کوئی کلب نہیں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ مکہ معاہدے کے تحت پاکستان کن امور کا پابند ہے تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ برادر ممالک سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ یہ معاہدہ پاکستان کو تینوں ممالک کے مشترکہ دفاع کے امور میں پابند کرتا ہے۔
اگر شراکت داروں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہو جائے تو پاکستان کس طرح ردعمل دے گا، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدوں کو عملی شکل دینے کا طریقہ کار کبھی بھی عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک فیصلہ کریں گے کہ کس طرح ردعمل دینا ہے، وہ لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق اسے عملی جامہ پہنائیں گے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اتحاد کے چین کے ساتھ تعلقات پر اثرات سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ یہ اتحاد چین کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات سے متصادم نہیں بلکہ پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط اور معاون بنانے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک سعودی اور پاک ترک تعلقات اچانک وجود میں نہیں آئے، چینی اس بات کو سمجھتے ہیں اور دنیا بھی مجموعی طور پر سمجھتی ہے کہ یہ تعلقات کتنے تاریخی ہیں۔
امریکا، ایران میں ثالثی اور پاکستان کی منفرد پوزیشن
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی کوششوں سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی امن کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق اس معاملے میں پاکستان کی ’’منفرد پوزیشن‘‘ بھی ہے، کیونکہ اس کی پالیسی دنیا بھر کے مختلف ممالک کے ساتھ روابط اور شراکت داری پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے پاکستان ’’امن کے لیے ایک غیر جانب دار ثالث اور دیانت دار ثالث‘‘ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
ثالثی میں پیش رفت اور کسی تصفیے کے امکانات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اچھی ثالثی کی بنیادی شرائط میں سے ایک غیر جانب داری اور معروضیت برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے ’’مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل‘‘ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ دونوں فریقوں کے درمیان غیر جانب داری اور خلوص کے ساتھ ثالثی کر سکتے ہیں، انہیں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔
بھارت کے ساتھ مذاکرات کے امکانات
گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر فوجی جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دونوں جوہری ممالک، خصوصاً جوہری ہتھیار رکھنے والے ہمسایہ ممالک کے درمیان فوجی تصادم کا تصور ہی ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ بھی ثابت کیا کہ گزشتہ سال مئی میں بھارت نے ایک ’’اسٹریٹجک حماقت‘‘ کی۔
کشمیر کے مسئلے سے متعلق انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک ’’خارجی مسئلہ‘‘ ہے، جسے نئی دہلی ’’جبر کے ذریعے داخلی معاملہ بنانے‘‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
دنیا میں واحد کامیاب انسداد دہشتگردی مہم
افغانستان سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے اپنے مقاصد اور خواہشات ہیں، جن کا بنیادی طور پر تعین سیاسی قیادت کرتی ہے اور جو پاکستانی عوام کی خواہشات کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں کوئی مداخلت نہ ہو اور نہ ہی وہاں سے دہشت گردی ہو، یہی بنیادی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 میں حقِ دفاع تسلیم کیا گیا ہے اور دنیا کی ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال اب تک 42 ہزار انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے گئے ہیں اور 21 سو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
بلوچستان سے متعلق انہوں نے کہا کہ صوبے میں کوئی شورش نہیں ہے، ’’یہ صرف دہشت گردی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے 42 ہزار آپریشنز میں سے 32 ہزار سے زائد بلوچستان میں کیے گئے، جہاں سکیورٹی فورسز ان نام نہاد پراکسیز کا خاتمہ کرنے میں مصروف ہیں جو خود کو بلوچستان سے جوڑتے ہیں۔
اسٹریٹجک وضاحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت، بلوچستان کے عوام اور فوج اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا طریقہ دہشت گردوں کو ختم کرنا اور ’’بلوچستان کے عوام کو گلے لگانا‘‘ ہے۔








