مقدس مقامات کی بے حرمتی ناقابل برداشت، پاکستان اور او آئی سی کی مکہ ڈرون حملے کی مذمت

مقدس مقامات کی بے حرمتی ناقابل برداشت، پاکستان اور او آئی سی کی مکہ ڈرون حملے کی مذمت

پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں ڈرون داخل کرنے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف آنے والے ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ کے مقدس مقام پر ڈرون حملے کی کوشش کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اس اشتعال انگیز اقدام پر رنجیدہ اور فکرمند ہیں۔ انہوں نے سعودی شاہی مسلح افواج کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کی جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے معاملے میں بھی غیر متزلزل طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

دوسری جانب او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ نے بھی مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات اور مساجد کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔ تنظیم کے مطابق ایسے واقعات شہریوں میں خوف پیدا کرتے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔

او آئی سی نے مقدس مقامات، مساجد اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو بین الاقوامی اصولوں اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام پر زور دیا۔

سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بھی مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا۔ سعودی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں ڈرون کو منگل کی شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر شہر کے جنوب میں روک کر تباہ کیا گیا۔

مکہ مکرمہ اسلام کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے اور حج و عمرہ کے لیے دنیا بھر سے مسلمان یہاں آتے ہیں۔ اس سے قبل 2017 میں بھی سعودی فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔

More News