مہنگائی بے قابو، ایک ہفتے میں گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

مہنگائی بے قابو، ایک ہفتے میں گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

اسلام آباد: ملک بھر میں مہنگائی کا دباؤ بدستور برقرار ہے، ایک ہفتے کے دوران گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق کھلے خوردنی تیل کی قیمت 510 روپے فی کلو یا اس سے زائد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کھلے گھی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ 470 روپے فی کلو سے بڑھ کر 500 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔

اسی طرح مختلف برانڈز کے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تازہ نرخوں کے مطابق برانڈڈ گھی اور خوردنی تیل کی قیمت 580 روپے سے بڑھ کر 620 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کشیدہ صورتحال، بین الاقوامی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی لاگت میں اضافے کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی گھی اور تیل کے نرخ بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا دباؤ برقرار رہا تو مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

شہریوں نے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے گھریلو اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کیلئے موجودہ مہنگائی میں گھر کا بجٹ چلانا پہلے ہی مشکل ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ان کی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گھی اور خوردنی تیل ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی براہ راست عوام کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے مارکیٹ کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔

ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آنے اور درآمدی اخراجات میں اضافے کی صورت میں آئندہ دنوں میں مقامی مارکیٹ میں گھی اور خوردنی تیل کے نرخوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔

More News