میر رضا قتل کیس، تفتیشی افسر نے مزید اہم دستاویزات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرا دیں

میر رضا قتل کیس، تفتیشی افسر نے مزید اہم دستاویزات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرا دیں

کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، تفتیشی افسر نے مزید دستاویزات اور فارنزک رپورٹس جوڈیشل کمیشن کے پاس جمع کرا دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تفتیشی افسر کی جانب سے میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت اسمارٹ واچ، موبائل فون اور دیگر اشیا سے متعلق فارنزک رپورٹس بھی کمیشن کے حوالے کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کیس کی تحقیقات کے دوران ریکارڈ کیے گئے گواہوں کے مزید بیانات کی نقول بھی جوڈیشل کمیشن میں پیش کردی گئی ہیں۔

تفتیشی افسر نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیے گئے گواہوں کے بیانات کی مزید نقول بھی جمع کرائیں، جنہیں کیس کی تحقیقات میں اہم ریکارڈ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب میر رضا کے زیر استعمال آئی فون سے متعلق فارنزک تحقیقات بھی تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پنجاب فارنزک لیبارٹری بھی آئی فون کو کھولنے یا اس سے مطلوبہ ڈیٹا حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب فارنزک لیبارٹری نے کیس کے لیے قائم تحقیقاتی ٹیم کو اس حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے۔ فارنزک عمل مکمل نہ ہونے کے باعث میر رضا کی ایپل واچ اور موبائل فون تحقیقاتی ٹیم کو واپس بھیجے جانے کا امکان ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کی ایپل واچ سے بعض اسکرین شاٹس اور پیغامات ضرور حاصل ہوئے ہیں، تاہم ابتدائی جائزے کے مطابق ان میں ایسا کوئی اہم مواد سامنے نہیں آیا جسے موجودہ تحقیقات میں فیصلہ کن قرار دیا جاسکے۔

کیس میں مزید دستاویزات اور فارنزک رپورٹس جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ، ڈیجیٹل شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر فارنزک مواد کو کیس کی پیش رفت کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

تفتیشی ٹیم کی جانب سے مختلف شواہد کا جائزہ جاری ہے جبکہ ڈیجیٹل ڈیوائسز سے مزید قابلِ استعمال معلومات حاصل کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ آئی فون سے ڈیٹا حاصل نہ ہونے کے باوجود دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھانے کا عمل جاری ہے۔

میر رضا قتل کیس سے متعلق مزید پیش رفت اور تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد معاملے کے مختلف پہلوؤں پر مزید وضاحت متوقع ہے۔

More News