‘میر رضا کیس: ‘اب جا کر سوالات کمیشن کے سامنے اٹھ رہے ہیں

‘میر رضا کیس: ‘اب جا کر سوالات کمیشن کے سامنے اٹھ رہے ہیں

 

کراچی میں میر رضا کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں قائم عدالتی کمیشن کی کارروائی جاری ہے، جہاں جمعرات کو میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے، ان کے بھائی عبداللہ بھردے، سابق ڈی ایس پی ارشد آفریدی اور آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن کی کارروائی تین گھنٹے سے زائد جاری رہی، جبکہ احمد بھردے سے تقریباً دو گھنٹے تک سوالات کیے گئے۔ کمیشن نے میر رضا کے دوست حثیم اور رازق کو پیر کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا ہے، جبکہ گلستانِ جوہر کے ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

میر رضا، کراچی میں قائم ڈیزرٹ آؤٹ لیٹ Wafflix کے 25 سالہ مالک تھے، جو 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے اور اگلے روز گلستانِ جوہر کے علاقے سے مردہ حالت میں ملے۔ اہلِ خانہ کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر موت کو خودکشی قرار دیا، تاہم خاندان نے اس مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے پوسٹ مارٹم، جائے وقوعہ اور شواہد محفوظ کرنے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔

میر رضا کی بہن علیشبا کا کہنا ہے کہ خاندان اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتا جب تک کیس کے حقائق سامنے نہیں آتے۔ ان کے مطابق اعتماد بھی اسی وقت بحال ہوگا جب تحقیقات کے نتیجے میں اصل حقائق واضح ہوں گے۔

علیشبا نے کہا کہ میر رضا اپنے دوستوں سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے، اس لیے خاندان کے لیے یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ ان کے قریبی دوستوں میں سے کسی کو بھی ان کے بارے میں کوئی اہم بات معلوم نہیں۔ ان کے مطابق ممکن ہے میر رضا نے کسی سے کچھ شیئر نہ کیا ہو، تاہم یہ صورتحال خاندان کے لیے انتہائی افسوس ناک ہے۔

میر رضا کے والد میر حسین نے کہا کہ وہ پولیس کی تحقیقات سے بالکل مطمئن نہیں، تاہم عدالتی کمیشن کے سامنے خاندان کی جانب سے پہلے دن سے اٹھائے جانے والے سوالات پر کارروائی ہونے سے انہیں کسی حد تک اطمینان ہے۔ ان کے مطابق جائے وقوعہ، فرانزک، شواہد میں مبینہ ردوبدل، ویڈیوز کے غائب ہونے اور دیگر معاملات پر سوالات اب کمیشن کے سامنے اٹھائے جا رہے ہیں۔

دورانِ سماعت احمد بھردے نے اعتراف کیا کہ انہوں نے میر رضا کی گمشدگی سے متعلق سندھ پولیس کے MILAP پورٹل پر موجود پوسٹ پولیس سے ڈیلیٹ کروائی تھی۔ انہوں نے کمیشن کو کاروباری معاملات اور میر رضا کے لاپتہ ہونے سے لاش ملنے تک کے واقعات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کیں۔

احمد بھردے نے مزید بتایا کہ کاروباری مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو گارڈ کی بندوق نکالتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ بعد میں فوٹیج حاصل کرکے پولیس کے حوالے کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض افراد نے میر رضا سے متعلق مالی معاملات کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا تھا۔

More News