میر رضا کیس: نئی تحقیقاتی ٹیم کا تمام شواہد کا ازسرنو جائزہ، پوسٹ مارٹم ریکارڈ بھی طلب

میر رضا کیس: نئی تحقیقاتی ٹیم کا تمام شواہد کا ازسرنو جائزہ، پوسٹ مارٹم ریکارڈ بھی طلب

کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی نئی تحقیقاتی ٹیم نے تمام دستیاب شواہد کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے میڈیکو لیگل ریکارڈ، پوسٹ مارٹم سے متعلق دستاویزات اور پولیس کی باہمی خط و کتابت بھی حاصل کرلی ہے تاکہ تحقیقات کے مختلف مراحل اور سامنے آنے والی معلومات کا جائزہ لیا جاسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کے درمیان پوسٹ مارٹم سے متعلق خط و کتابت نے نئی تحقیقاتی ٹیم کے لیے کئی سوالات پیدا کردیے ہیں۔ تفتیش کار اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں کہ پہلے پوسٹ مارٹم میں مبینہ غلطیوں یا اعتراضات سے متعلق پولیس حکام کو کب آگاہ کیا گیا اور اس حوالے سے متعلقہ مراسلت کس تاریخ کو موصول ہوئی۔

ذرائع کے مطابق پہلے پوسٹ مارٹم پر اعتراض سے متعلق خط 6 اگست کو ایس ایس پی آفس کو موصول ہوا تھا، جبکہ ایس ایس پی آفس کی جانب سے ڈاک موصول ہونے کا ثبوت بھی نئی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کردیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ متعلقہ خط 7 اگست کو ایس ایس پی نے وصول کیا۔

نئی تحقیقاتی ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ 6 اگست سے قبل پہلے پوسٹ مارٹم میں مبینہ غلطیوں کے حوالے سے پولیس کو کس حد تک معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ پولیس افسران نے نئی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرا دیے ہیں۔

پولیس افسران کے بیانات کے مطابق 2 اگست کو پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس افسران کے ساتھ شیئر کی گئی تھی۔ اس کے اگلے روز یعنی 3 اگست کو کیس کے انویسٹی گیشن افسر نے پولیس سرجن کو خط لکھا اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق مزید معلومات طلب کیں۔

ذرائع کے مطابق انویسٹی گیشن افسر نے 3 اگست کو پولیس سرجن سے بذریعہ خط پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی طلب کی تھی۔ نئی ٹیم اب ان دستاویزات، سرکاری خط و کتابت اور افسران کے بیانات کو باہم ملا کر واقعات کی ترتیب اور تحقیقات کے مختلف مراحل کا جائزہ لے رہی ہے۔

نئی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے میڈیکو لیگل ٹیم سے بھی بات چیت کیے جانے کا امکان ہے تاکہ پوسٹ مارٹم سے متعلق تمام نکات پر مزید وضاحت حاصل کی جاسکے۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف ریکارڈز میں موجود تاریخوں اور معلومات میں کوئی تضاد ہے یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق تمام شواہد کا دوبارہ جائزہ لینے کا مقصد تحقیقات کو مزید واضح کرنا اور کسی بھی اہم پہلو کو نظر انداز ہونے سے بچانا ہے۔ تاہم نئی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے حتمی نتائج یا کسی ذمہ داری کا تعین ابھی سامنے نہیں آیا۔

More News