نئے صوبوں کا قیام، پشاور کے طلباء نے عوامی مسائل کے حل کو ناگزیر قرار دے دیا
پشاور: ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے، پشاور کے طلباء نے بھی نئے صوبوں کے قیام کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی عوامی مسائل کے حل کے لیے ضروری قرار دے دیا ہے۔
طلباء کا کہنا ہے کہ موجودہ بڑے صوبوں میں انتظامی معاملات اور حکومتی اداروں تک عوام کی رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ نئے اور نسبتاً چھوٹے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے حکومتی مشینری عوام کے قریب آسکتی ہے اور شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے طویل فاصلے طے کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
پشاور کے طلباء کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے بالخصوص تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتر منصوبہ بندی اور نگرانی ممکن ہوسکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب انتظامی اکائی کا حجم کم ہوگا تو حکام کے لیے دور دراز علاقوں تک رسائی اور مقامی مسائل کی نشاندہی نسبتاً آسان ہوگی۔
طلباء کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم سے مالیاتی وسائل کی تقسیم کے طریقہ کار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر وسائل کی تقسیم آبادی، پسماندگی اور حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے تو چھوٹے انتظامی یونٹس اپنے ترقیاتی منصوبوں کو زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکتے ہیں۔
شہریوں کا بھی کہنا ہے کہ صوبے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے جتنے قابلِ انتظام ہوں گے، انتظامی کنٹرول اتنا ہی مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس میں مقامی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
پشاور کے طلباء کے مطابق نئے صوبوں کا مقصد محض نقشے پر نئی حدود بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا بنیادی مقصد بہتر حکمرانی، عوامی سہولت اور بنیادی خدمات کی فراہمی ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو ان کے ساتھ مؤثر انتظامی ڈھانچہ، مناسب مالی وسائل اور بااختیار ادارے بھی فراہم کرنا ضروری ہوگا۔
نئے انتظامی یونٹس کے حامی حلقے یہ مؤقف بھی اختیار کر رہے ہیں کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑے صوبوں میں انتظامی مسائل کے پیش نظر حکمرانی کے موجودہ ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں میں نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر سیاسی سطح پر بھی بحث میں تیزی آئی ہے اور بعض حکومتی شخصیات نے عوامی رائے اور سیاسی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر اس معاملے کو آگے بڑھانے کی حمایت کی ہے۔
تاہم نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی، سیاسی اور مالی معاملات بھی اہم چیلنج ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل خود بخود حل نہیں ہوں گے، بلکہ نئے انتظامی یونٹس کے ساتھ اختیارات کی منتقلی، وسائل کی تقسیم، اداروں کی استعداد اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہوگا۔
پشاور کے طلباء اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر سیاسی نعروں کے بجائے سنجیدہ قومی مکالمہ کیا جائے اور عوامی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو عام شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور دیگر بنیادی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرسکے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر نئے صوبوں کا قیام واقعی بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کے فوری حل کا ذریعہ بنتا ہے تو اس تجویز پر سنجیدگی سے پیش رفت ہونی چاہیے۔








