ناسا کے خلائی جہاز نے چاند پر نیا اور غیر معمولی بڑا گڑھا دریافت کرلیا
سان فرانسسکو: ناسا کے خلائی جہاز نے چاند کی سطح پر ایک نیا اور غیر معمولی طور پر بڑا گڑھا دریافت کیا ہے، جو رومن کولوزیم سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گڑھا تقریباً 728 فٹ چوڑا اور 141 فٹ گہرا ہے اور ممکنہ طور پر 2024 میں ایک بڑے شہابیاتی تصادم کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ گڑھا چاند کے زمین کی جانب والے حصے پر ناسا کے لونر ریکونیسنس آربیٹر نے مئی 2024 میں دریافت کیا۔ تاہم اس تصادم کو زمین یا خلا میں موجود دوربینوں نے براہِ راست ریکارڈ نہیں کیا۔ ابتدائی تصاویر 2025 تک موجود ڈیٹا میں چھپی رہیں، بعد ازاں مزید تفصیلی مشاہدات کے ذریعے دریافت کی تصدیق کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا بڑا تصادم اوسطاً ہر 132 سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے، جس کے باعث اسے انتہائی نایاب واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تصادم کے نتیجے میں چاند کی سطح تقریباً 100 کلومیٹر تک متاثر ہوئی اور بڑی مقدار میں مٹی اور پتھر مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔
اس گڑھے کو سابق ماہرِ فلکیات تھامس میگچن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ سابق ریکارڈ ہولڈر سے تقریباً تین گنا بڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دریافت سے چاند کی سطح، شہابیاتی تصادمات اور مستقبل کے قمری مشنز کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔








