نظام شمسی کے پراسرار نویں سیارے کی تلاش میں اہم پیشرفت، انفراریڈ ڈیٹا سے ممکنہ اشارے مل گئے
نظام شمسی کے پراسرار نویں سیارے کی تلاش میں سائنسدانوں نے ایک اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ انفراریڈ ڈیٹا کے تجزیے کے دوران ایک ایسا ممکنہ امیدوار سامنے آیا ہے جو نظام شمسی کے بیرونی حصے میں موجود نامعلوم سیارے کی تلاش میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں نے ابھی تک اس سیارے کی موجودگی کی حتمی تصدیق نہیں کی۔
نظام شمسی میں آٹھ تسلیم شدہ سیارے موجود ہیں، لیکن کئی برسوں سے ماہرین فلکیات یہ امکان بھی زیرِ غور رکھتے ہیں کہ نیپچون سے بہت دور ایک بڑا سیارہ موجود ہو سکتا ہے۔ اسے عام طور پر ’’پلانیٹ نائن‘‘ یا نویں سیارہ کہا جاتا ہے۔ یہ ممکنہ سیارہ سورج سے انتہائی فاصلے پر ہونے کے باعث براہِ راست مشاہدے سے بچا ہوا ہے۔
سائنسدانوں نے اس مفروضے پر غور اس وقت شروع کیا جب نظام شمسی کے بیرونی حصے میں موجود بعض چھوٹے برفانی اجسام کے مداروں میں غیر معمولی خصوصیات دیکھی گئیں۔ کچھ محققین کے مطابق ان اجسام کی حرکت کسی بڑے اور دور دراز سیارے کی کششِ ثقل سے متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے دیگر سائنسی وضاحتیں بھی موجود ہیں اور نویں سیارے کا مفروضہ اب بھی تحقیق کا موضوع ہے۔
انفراریڈ ڈیٹا اس تلاش میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انفراریڈ مشاہدات کے ذریعے ایسے اجرام کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے جو اپنی کم روشنی یا انتہائی فاصلے کی وجہ سے عام بصری دوربینوں سے آسانی سے دکھائی نہیں دیتے۔ سرد اجرام بھی انفراریڈ شعاعوں کی صورت میں توانائی خارج کر سکتے ہیں، جس سے ان کی تلاش میں مدد ملتی ہے۔
اگر حالیہ ڈیٹا میں سامنے آنے والے امیدوار کی مزید مشاہدات سے تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ فلکیات کے میدان میں ایک اہم پیشرفت ہوگی۔ اس سے نظام شمسی کی تشکیل، سیاروں کی حرکت اور سورج سے بہت دور موجود اجرام کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔
تاہم کسی ممکنہ امیدوار کو باقاعدہ سیارہ قرار دینے کے لیے مزید شواہد درکار ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کو اس کی حرکت، مقام، مدار اور دیگر خصوصیات کا مسلسل مشاہدہ کرنا ہوگا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا یہ واقعی ایک نیا سیارہ ہے یا ڈیٹا میں سامنے آنے والا کوئی دوسرا فلکیاتی جسم۔
نویں سیارے کی تلاش کئی دہائیوں سے جاری ہے، لیکن اب تک اس کی موجودگی کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حالیہ پیشرفت اگر مزید تحقیق میں ثابت ہوتی ہے تو یہ انسان کی نظام شمسی کے بارے میں سمجھ کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔








