نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے سائبر سیکیورٹی انٹرن شپ پروگرام شروع کر دیا
اسلام آباد: پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں افرادی قوت کی تیاری اور نوجوانوں کو جدید تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے سائبر سیکیورٹی انٹرن شپ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ اور حالیہ گریجویٹس کو عملی تربیت فراہم کرنا اور انہیں سائبر اسپیس کے تحفظ کے لیے درکار جدید مہارتوں سے روشناس کرانا ہے۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے مطابق انٹرن شپ پروگرام چھ ہفتوں پر مشتمل ہوگا، جس میں ملک بھر کے زیر تعلیم طلبہ اور حالیہ گریجویٹس شرکت کے اہل ہوں گے۔ پروگرام کے لیے درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا سکتی ہیں جبکہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 16 جون مقرر کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو سائبر سیکیورٹی کے مختلف اہم شعبوں میں عملی تجربہ فراہم کیا جائے گا۔ پروگرام میں انسڈنٹ رسپانس، تھریٹ انٹیلی جنس اور وَلنریبلٹی مینجمنٹ جیسے اہم موضوعات شامل کیے گئے ہیں تاکہ شرکا سائبر حملوں کی نشاندہی، ان کے تدارک اور ڈیجیٹل نظام کے تحفظ کے حوالے سے عملی مہارت حاصل کر سکیں۔
اس کے علاوہ پروگرام میں گورننس، کمپلائنس، ڈیجیٹل فرانزکس، سافٹ ویئر ٹیسٹنگ اور مصنوعی ذہانت کی ترقی سے متعلق تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق سائبر سیکیورٹی کا میدان تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔
انٹرن شپ پروگرام کے دوران منتخب امیدواروں کو سائبر سیکیورٹی کے تجربہ کار ماہرین کے ساتھ براہ راست کام کرنے کا موقع ملے گا۔ شرکا حقیقی نوعیت کے سائبر سیکیورٹی منصوبوں میں حصہ لیں گے، جس سے انہیں عملی تجربہ حاصل ہوگا اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کا کہنا ہے کہ پروگرام کے دوران شرکا کو ماہرین کی جانب سے رہنمائی اور مینٹورشپ بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ جدید چیلنجز کو سمجھ سکیں اور مستقبل میں سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے پروگرام نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ ملک میں سائبر سیکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ اقدام پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ اور مستقبل کے سائبر ماہرین کی تیاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔








