سوات میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، 50 سے زائد دکانیں سیل

سوات: غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، 50 سے زائد دکانیں اور کاروباری مراکز سیل

سوات: ضلعی انتظامیہ نے مرکزی شہر مینگورہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین اور ان کے زیر انتظام کاروباری مراکز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران 50 سے زائد دکانیں اور کاروباری مراکز سیل کر دیے گئے جبکہ مختلف علاقوں میں مزید جانچ پڑتال اور نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔

انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائیاں شہر کی مختلف تجارتی مارکیٹوں میں کی گئیں جن میں چینا مارکیٹ، اکاخیل مارکیٹ اور کوچی مارکیٹ سمیت دیگر کاروباری مراکز شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد مبینہ طور پر قانونی دستاویزات کے بغیر کاروباری سرگرمیوں میں مصروف تھے، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو اس سے قبل کئی مرتبہ نوٹسز جاری کیے گئے تھے اور انہیں قانونی تقاضے پورے کرنے یا کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ تاہم متعدد افراد کی جانب سے ان ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

کارروائی کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی ارحم مختار کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے مختلف مارکیٹوں میں مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے دکانوں اور کاروباری مراکز کی جانچ پڑتال کی۔

حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کی روک تھام اور سرکاری قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی غیر قانونی طور پر کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق مینگورہ اور گردونواح کے دیگر علاقوں میں بھی مزید کاروباری مراکز کی جانچ کی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔ انتظامیہ نے تمام کاروباری افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے قانونی دستاویزات مکمل رکھیں اور سرکاری ضوابط کی پابندی کو یقینی بنائیں۔

ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی تاکہ شہر میں کاروباری نظام کو قانون کے مطابق چلایا جا سکے اور انتظامی امور میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔

More News