نیو یارک میں ایم ڈی آئی ایم ایف کے ساتھ مثبت گفتگو ہوئی، وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نیو یارک میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ مثبت گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور مالیاتی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے نیو یارک میں ہونے والی ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ بات چیت میں مختلف معاشی معاملات زیرِ بحث آئے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تعاون ملکی معیشت کے استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے معاشی دباؤ، مہنگائی، بیرونی ادائیگیوں اور مالیاتی ضروریات جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات حکومت کی معاشی پالیسیوں کا اہم حصہ ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کے تعاون سے پاکستان کو مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی لانے کے لیے مدد ملتی ہے، تاہم اس تعاون کے ساتھ معاشی اصلاحات اور طے شدہ شرائط پر عمل درآمد بھی اہم ہوتا ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں عموماً حکومتی اخراجات، ٹیکس وصولیوں، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور مالیاتی خسارے جیسے معاملات زیرِ غور آتے ہیں۔ ان شعبوں میں اصلاحات کا مقصد ملکی معیشت کو مستحکم بنانا اور مالیاتی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گفتگو کو مثبت قرار دینا پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رابطوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے مخصوص نکات، کسی نئی مالیاتی سہولت یا معاہدے سے متعلق تفصیلات سامنے آنے پر ہی اس کے نتائج کا واضح اندازہ لگایا جا سکے گا۔
پاکستانی معیشت کے لیے آئندہ عرصے میں مہنگائی میں کمی، سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا اہم ترجیحات ہیں۔ حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ معاشی استحکام کے اقدامات کے ساتھ عام شہریوں پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔








