اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد خطے کی صورتحال پر مشاورت کے سلسلے میں سعودی عرب کا دورہ کیا گیا، مشیرِ وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ سعودی قیادت اور ایرانی صدر سے رابطوں کے بعد معاملات میں بہتری آئے گی۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان کی قیادت مسلم ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ایران کو چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت میں مسلم ممالک کو نشانہ نہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ موجود ہے اور پاکستان اس کا پابند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی پالیسی تحمل پر مبنی ہے اور وہ خود ردعمل نہیں دے رہا، اس لیے دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔
افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ افغانستان پر قبضہ چاہتا ہے اور نہ ہی اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے، بلکہ صرف اپنے ملک کو نقصان سے بچانا چاہتا ہے۔
گورنر سندھ کے معاملے پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ابتدا میں طے ہوا تھا کہ بلوچستان اور سندھ کے گورنرز مسلم لیگ (ن) سے ہوں گے، جبکہ ایم کیو ایم سے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا گیا کہ گورنر سندھ ان کا ہوگا۔ ان کے مطابق کامران ٹیسوری نگراں حکومت کے دور سے اس عہدے پر موجود تھے اس لیے فوری تبدیلی ضروری نہیں سمجھی گئی، تاہم بعد میں حالات کے پیش نظر تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گورنر کی تبدیلی کے معاملے پر ایم کیو ایم سے طریقے اور سلیقے سے بات چیت ہوتی رہی ہے اور کراچی سے متعلق ان کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے








