وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی پیشکش
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرنے کی صورت میں ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اپنا لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرتی ہے تو حکومت اس کے ساتھ بیٹھ کر بامعنی اور بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے۔
اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے پہلے بھی پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم بات چیت مطلوبہ نتائج تک نہیں پہنچ سکی۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کی اور امید تھی کہ مذاکرات کے نتیجے میں دھرنوں اور احتجاج کی سیاست کا خاتمہ ہوگا، تاہم بعد میں بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام کے بعد اب ترقی کا مرحلہ شروع ہوا ہے، اس لیے احتجاج، دھرنوں اور لانگ مارچ سے معاشی سرگرمیوں کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بندش اور احتجاجی سرگرمیوں کے اثرات ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی معمولات پر پڑ سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے پی ٹی آئی قیادت پر زور دیا کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرے تاکہ مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھولا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سیاسی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم موجودہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران عوام کے جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر سے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا ہے، جس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان لانگ مارچ سے قبل مذاکرات ہوئے تھے، تاہم مختلف معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔
وزیراعظم کی تازہ پیشکش کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر مذاکرات کے ذریعے موجودہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کی بحث شروع ہوگئی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ ختم کرنے اور حکومت کی مذاکراتی پیشکش پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔








